کاروار 17؍دسمبر(ایس او نیوز)پریش میستا کی ہلاکت کے تعلق سے صحیح تحقیقات، مجرمین کو سخت سزا اور پولیس کی زیادتیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی کی طرف سے 18دسمبر کو ہوناور میں جو احتجاجی مظاہرہ ہونے والاتھا ، جس میں بی جے پی کے اعلیٰ قائدین جگدیش شیٹر اور ایشورپا وغیر ہ شامل ہونے کا پروگرام تھا اسے ملتوی کیے جانے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ اگلے احتجاجی پروگرام کے تعلق سے اسی دن اعلان کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بی جے پی کے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے 19دسمبر سے جیل بھرو تحریک چلانے کا جو اعلان کیا تھا، معلوم ہوا کے کہ پارٹی کی جانب سے ابھی اس ضمن میں بھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔اس طرح احتجاجی مظاہرہ اور جیل بھرو تحریک دونوں پروگرام فی الحال ملتوی ہوتے نظر آرہے ہیں۔
خیال رہے کہ بی جے پی مسلسل یہ پروپگنڈہ کررہی ہے کہ پریش میستا کی موت سے متعلق تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے اہم ثبوت مٹادئے ہیں اور ساتھ ہی بے قصوروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی پس منظر میں 18دسمبر کو ضلع بھر میں احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بی جے پی نے تیار کیا تھا۔لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے پریش میستا کے موت کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپے جانے کے بعد پھر اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کی معقولیت پر خود بی جے پی کے اندر ہی سوال اٹھنے لگے تھے۔کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے فی الحال یہ پروگرام ملتوی کردیا گیا ہے۔
بی جے پی کے ہی بعض حلقوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے بی جے پی رضاکاروں اور ہندو تنظیموں کو 19 دسمبر سے جیل بھرو تحریک چلانے کی جو آواز لگائی تھی، وہ پارٹی کا فیصلہ نہیں تھا۔اس کے علاوہ پارٹی لیڈران اور کارکنان کاخیال ہے کہ موجودہ حالات اس طرح کے احتجاج کے لئے نامناسب ہیں۔پارٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے لئے آگے کون آئے گا؟کیونکہ ہوناور ، کمٹہ اور سرسی وغیرہ کے بہت سارے پارٹی کارکنان اس وقت جیل میں بند ہیں یا پھر پولیس کے ڈر سے روپوش ہوگئے ہیں۔ سرسی میں گرفتار لوگوں کی ضمانت اور عدالتی کارروائیوں کے نگرانی کا ذمہ دار ایم ایل اے کاگیری کو بنایا گیا ہے، لیکن ہوناور اور کمٹہ میں گرفتار افراد کی قانونی کارروائیوں میں مدد کرنے کی ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں ہے ، کیونکہ کمٹہ کے کچھ اہم اور سرگرم لیڈران پر بھی مقدمے دائر کیے گئے ہیں اور وہ سب روپوش ہوگئے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ ان سب دشواریوں کو سامنے رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ مزید آگے بڑھانا خود بی جے پی کے کارکنان کے لئے دردسر بن گیا ہے اس لئے ان مسائل کے حل ہونے تک اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔